Thursday, 9 June 2022

یہ چپ کیا ہے

 کبھی ہم اجنبی تھے

اور اکثر سوچتے تھے

کوئی ایسا بھی لمحہ آئے گا جب

ہمارے درمیاں حائل ہے جو دیوار

از خود گر پڑے گی

اور ہم دونوں

جو اک دوجے سے کہنا چاہتے ہیں

کہہ سکیں گے

اور اب جبکہ

ہمارے درمیاں حائل کوئی دیوار ہے

نہ اجنبیت ہے، نہ دوری ہے

تو ہم دونوں

فقط اک دوسرے کو دیکھ کر چپ ہیں

وہ ساری ان کہی باتیں، لبوں تک کیوں نہیں آتیں

یہ چپ کیا ہے؟

کہیں رستے میں دم لینے کی کوشش ہے

ہمارے درمیاں حائل نئی دیوار ہے کوئی

یا پھر یہ بھی

تعلق کی کوئی بے نام صورت ہے؟


یوسف خالد

No comments:

Post a Comment