Tuesday, 6 June 2023

بے مثل ہے کونین میں سرکار کا چہرہ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بے مثل ہے کونین میں سرکارﷺ کا چہرہ

آئینۂ حق ہے شہہِ ابرارﷺ کا چہرہ

دیکھیں تو دعا مانگیں یہی یوسفِؑ کنعاں

تکتا رہوں خالق! تِرے شہکار کا چہرہ

اے مُطلبیِ پھول، بہاروں کے پیغمبرؐ

کِھلتا ہے تِرے نام سے گلزار کا چہرہ

خورشیدِ حلیمہ! تِری مشتاق ہیں آنکھیں

بھاتا نہیں اب ماہِ ضیا بار کا چہرہ

اے خُلد کروں گا تِرا دیدار بھی لیکن

اس دم ہے نظر میں تِرے مُختار کاچہرہ

والشَمس کی یہ دادِ قسم کہتی ہے مڑ کر

بے داغ رہا شاہ کے کردار کا چہرہ

جلوؤں سے ہو معمور کیوں نہ دل کا مدینہ

آنکھوں میں ہے اس مطلعِ انوارؐ کا چہرہ

دورانِ شفاعت وہ سکوں بخش دِلاسے

بے فکرِ ندامت ہے گنہ گار کا چہرہ

کِھلتا ہی گیا پھول کی صورت دمِ آخر

اترا نہیں دیکھا تِرے بیمار کا چہرہ

پوچھا جو یہ سائل نے کہ کیا چیز ہے احسن

صدیقؓ نے برجستہ کہا؛ یار کا چہرہ

اترے پسِ مرگ اس کی زیارت کو فرشتے

نِکھرا وہ تِرے طالبِ دیدار کا چہرہ

جھپکے جو نصیر آنکھ دمِ نزع تو یا رب

پُتلی میں پھرے احمدِؐ مختارﷺ کا چہرہ


سید نصیرالدین نصیر

No comments:

Post a Comment