عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینے سے میں پیغام محبت لے کے آیا ہوں
شعورِ ارتقائے آدمیّت لے کے آیا ہوں
علاجِ تلخئ جبرِ مشیّت لے کے آیا ہوں
جبینِ شوق میں حسنِ عقیدت لے کے آیا ہوں
میری رگ رگ میں انوارِ الہیٰ کی تجلّی ہے
نظر کی روشنی، نورِ بصیرت لے کے آیا ہوں
فرشتے جس مقدس بارگہ کا طواف کرتے ہیں
اُسی درگاہ سے درسِ حقیقت لے کے آیا ہوں
مجھے بخشا گیا فقر و غنائے بو ذرؓ و حیدرؑ
کہ میں اب دین اور ایماں کی دولت لے کے آیا ہوں
بہت ارفع و اعلیٰ ہیں مدارج عشق و مستی کے
فسانے کے ہیولوں میں حقیقت لے کے آیا ہوں
کہو دنیا سے مِرے عزم و ہمت سے سبق سیکھے
کہ میں فکر و نظر میں استقامت لے کے آیا ہوں
حقیقت ہے بطورِ خاص دربارِ رسالتﷺ سے
جمالِ حسن، درسِ شعر و حکمت لے کے آیا ہوں
زمانہ دیکھ کر جس کو خوشی سے جھوم اٹھا ہے
وہ عظمت، وہ نیابت، وہ عزیمت لے کے آیا ہوں
جھلک فردوس کی ہے گنبدِ خضرا کا نظارہ
نظر میں سر بلندی اور رفعت لے کے آیا ہوں
تہی داماں گیا تھا اے ثمر! لیکن میں طیبہ سے
نگاہ و دل میں جلوہ زارِ عظمت لے کے آیا ہوں
عبدالکریم ثمر
No comments:
Post a Comment