Tuesday, 6 June 2023

کیکٹس پر درد کا بور آیا ہے

 کیکٹس پر درد کا بُور آیا ہے

زخم مہکنے کے موسم میں

تم بھی آنا

مدفن پر رونق ہو گی

کانٹے چُننے والے ہاتھ خالی ہیں

ہجر زدہ دل کی سسکیاں

سننے والی سماعتیں بانجھ اور

لفظ گُونگے ہو چکے ہیں 

حرف تسلی

ناپید ہے

اپنے گلے مل کر رونا آسان نہیں


نائلہ راٹھور

No comments:

Post a Comment