Monday, 1 November 2021

کچھ دنوں اور بھی کر لیں شب ہجراں فریاد

 کچھ دنوں اور بھی کر لیں شبِ ہجراں فریاد

جب نہیں ہم تو کہاں اے دلِ نالاں! فریاد

تُو نے صیاد و قفس لا کے چمن میں رکھا

اب کریں کیا اسے شرمندۂ احساں فریاد

خشک ہو کے یہ چراتے نہیں او قاتل

کرتے ہیں زخم مِرے بہرِ نمکداں فریاد

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

 تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارا کر رہا ہوں میں

شکستِ آرزو، عرضِ تمنا، شوقِ لا حاصل

تِری خاطر تو یہ سب کچھ گوارا کر رہا ہوں میں

قفس میں جی بہلنے کے لیے وہ پھول رکھ آئے

ہجومِ یاس میں جن پر گزارا کر رہا ہوں میں

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے

 کوئی کعبہ، نہ کلیسا، نہ صنم میرا ہے

اک نئے خواب کی دھرتی پہ قدم میرا ہے

ساری دنیا سے ہمہ وقت جڑا رہتا ہوں

رابطہ خود سے مگر آج بھی کم میرا ہے

دل کو احساس کے اس موڑ پہ لائی ہے حیات

اب نہ میری ہے خوشی، اور نہ غم میرا ہے

کوئی نامہ نہیں پیام نہیں

کوئی نامہ نہیں پیام نہیں

یہ محبت کا احترام نہیں

گردشوں کی نوازشیں توبہ

بادہ نوشی بھی اب حرام نہیں

زندگی کو قریب سے دیکھا

موت ہی آخری مقام نہیں

اپنے میکش پہ کرم کی ہو نظر اے ساقی

اقتباس از مرثیہ ساقی نامہ


اپنے مےکش پہ کرم کی ہو نظر اے ساقی

جُھومتا اُٹھوں تو پہنچوں تِرے در اے ساقی

جام تارے ہوں، صراحی ہو قمر اے ساقی

ہوش باقی نہ رہے، تا بہ سحر اے ساقی

مرثیہ اہلِ مؤدت کو سُنانا ہے مجھے

عالم نشہ میں منبر پہ بھی جانا ہے مجھے

کس قدر بے ساز و ساماں ہو گئے

 کس قدر بے ساز و ساماں ہو گئے

کیا تھے اور کیا ہم مسلماں ہو گئے

جن سروں پر تھا کبھی بالِ ہما

آج غیروں کے مگس راں ہو گئے

اہلِ ہمت، اہلِ دولت، اہلِ دِیں

رونقِ شہرِ خموشاں ہو گئے

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں

طنزیہ و مزاحیہ کلام


ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں

وہ سب جوان ہو کر بڈھے نکل رہے ہیں

تھالی کا بن کے بیگن نانا پھسل رہے ہیں

نانی کی سہیلیوں پہ نیت بدل رہے ہیں

ان ہپیوں کو شاید یہ بھی خبر نہیں ہے

زلفوں کے گھونسلوں میں بلبل بھی پل رہے ہیں