Friday, 31 January 2025

کھلے گا عقدۂ توحید میری بات کے ساتھ

 کُھلے گا عقدۂ توحید میری بات کے ساتھ

صفت بھی رہتی ہے ہر وقت اپنی ذات کے ساتھ

کہیں پہ بکھری ہے تنہائی میرے کمرے میں

کہیں پہ بکھری ہیں تصویریں کاغذات کے ساتھ

میں اس سے ہار کے ہر پل دُعائیں مانگتا ہوں

کہ اس کی جیت بھی ہو جائے میری مات کے ساتھ

ذکر شہ ابرار مدام اچھا لگے ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذکرِ شہ ابرارﷺ مدام اچھا لگے ہے

ہر آن درود اور سلام اچھا لگے ہے

رہتی ہے سدا پیشِ نظر پیروی انؐ کی

جو اچھا لگے ان کو وہ کام اچھا لگے ہے

دیوانہ کہے یا کوئی کچھ کہے مجھ کو

قرآن کے بعد انؐ کا کلام اچھا لگے ہے

دلاسہ دیتے ہیں آقا اداس لوگوں کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دلاسہ دیتے ہیں آقاﷺ اداس لوگوں کو

بلا کے دور سے وہ اپنے پاس لوگوں کو

بس ایک اسم نے چہروں کو نور بانٹا ھے

عجب وگرنہ تھا خوف و ہراس لوگوں کو

حضورِ آئے تو پوری ہوئی ہر اک خواہش 

کئی یُگوں سے تھی اُمید، آس لوگوں کو

گلی گلی ہے اندھیرا کوئی صدا تو ملے

 گلی گلی ہے اندھیرا کوئی صدا تو ملے

گُھٹی گُھٹی سی فضا ہے کہیں ہوا تو ملے

میں اپنے چہرے کی ویرانیاں کُھرچ ڈالوں

بس ایک لمحے کو جینے کا ذائقہ تو ملے

اسی لیے تو اُڑائی ہیں دھجیاں اپنی

جنوں کو شعلہ مزاجی کا کچھ مزہ تو ملے

علی حسن جہاں بانی علی تفسیر قرآنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


علیؑ حُسنِ جہاں بانی، علیؑ تفسیرِ قرآنی

علیؑ کے دم سے قائم ہے دلوں میں نورِ ایمانی

تصوف کے چمن کا باغباں کوئی نہیں ایسا

اسی کے سر پہ سجتا ہے ولا کا تاجِ سلطانی

دہکتی ریت پر لختِ جگر اُن کے ہوئے قرباں

انہی کے خونِ اقدس سے ہے روشن دیں کی پیشانی

پھر وہی دشت کربلا ہے آج

 کوئی منزل نہ راستا ہے آج

لمحہ لمحہ بھٹک رہا ہے آج

زندگی کی عجب ادا ہے آج

زندگی خود سے بھی خفا ہے آج

فاصلے اب کہاں ہیں دنیا میں

صرف اپنوں میں فاصلا ہے آج

Thursday, 30 January 2025

نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا

 نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا

خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا

بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا

انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ

اک امید موہوم پر جی رہا ہوں

کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا