Monday, 7 June 2021

سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا

 سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا

لہو لہو ہوا دل درد بے مثال ہوا

ہوا جو درد تو سینے کو تھام کے اپنے

کنارے بیٹھ گئے آج یہ دھمال ہوا

ہوا بھی سرد تھی کچھ لوگ بھی تھے سرد یہاں

سبب تھا یہ ہی جو زخموں سے دل نڈھال ہوا

گلہ کریں بھی تو کس سے بتا دلِ ناداں

خطائیں اپنی ہیں جو آج یہ زوال ہوا

بڑی عجیب سی تھی داستانِ غم انکی

سنی جو ہم نے تو دل کا خراب حال ہوا

پریشاں دیکھ کے دنیا کو اپنا دکھ بھولے

خدا کا شکر کہ ہر زخم اندمال ہوا

بغیر دکھ کے نہیں شازیہ کوئ جگ میں

ملے جو ان سے تو یکدم ہمیں خیال ہوا


شازیہ طارق

No comments:

Post a Comment