Monday, 7 June 2021

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے

 عشق تھا اور عقیدت سے مِلا کرتے تھے

پہلے ہم لوگ محبت سے ملا کرتے تھے

روز ہی سائے بلاتے تھے ہمیں اپنی طرف

روز ہم دھوپ کی شِدت سے ملا کرتے تھے

صرف رستہ ہی نہیں دیکھ کے خوش ہوتا تھا

در و دیوار بھی حسرت سے ملا کرتے تھے

اب تو ملنے کے لیے وقت نہیں ملتا ہے

ورنہ ہم کتنی سہولت سے ملا کرتے تھے


رمزی آثم

No comments:

Post a Comment