بارش
تیز گرتی چاندی سی
اس چمکتی چادر کو
سر سے پاؤں تک اوڑھے
ناچتی ہوں بارش میں
تم اگر یہاں ہوتے
ہر دفعہ کی طرح پھر
پہلے چیختے مجھ پہ
کیا تمہیں مصیبت ہے
چین کیوں نہیں آتا
چیک کیا تھا ٹی وی پہ
اور کہا تھا بارش ہے
آج گھر پہ ہی رہنا
واک پہ نہیں جانا
پر تمہاری عادت ہے
میری تم نہیں سنتیں
دیکھی اپنی حالت اب
سر سے پاؤں تک بھیگی
کانپتی ہو سردی سے
دانت مت نکالو اب
کپڑے بدلو جلدی سے
تولیے سے میرے پھر
بال خشک کرتے تم
میرا جسم سہلاتے
اور دھیرے دھیرے پھر
گرم گرم سانسوں سے
لہجہ دھیما پڑ جاتا
میرے گیلے کپڑوں میں
اپنے جسم کی گرمی
اس طرح ملا دیتے
پیاس سے مِری مٹی
بارشوں کو پی کر پھر
جیسے جینے لگتی ہے
ہر دفعہ یہ ہوتا ہے
پہلے تم گرجتے ہو
اور پھر برستے ہو
کیا عجیب اگنی ہے
پانیوں سے لگتی ہے
پانیوں سے بُجھتی ہے
بارشون کے موسم میں
بارشوں کے موسم میں
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment