Monday, 7 June 2021

بارش تیز گرتی چاندی سی

بارش 


تیز گرتی چاندی سی

اس چمکتی چادر کو

سر سے پاؤں تک اوڑھے

ناچتی ہوں بارش میں

تم اگر یہاں ہوتے

ہر دفعہ کی طرح پھر

پہلے چیختے مجھ پہ

کیا تمہیں مصیبت ہے

چین کیوں نہیں آتا

چیک کیا تھا ٹی وی پہ

اور کہا تھا بارش ہے

آج گھر پہ ہی رہنا

واک پہ نہیں جانا

پر تمہاری عادت ہے

میری تم نہیں سنتیں

دیکھی اپنی حالت اب

سر سے پاؤں تک بھیگی

کانپتی ہو سردی سے

دانت مت نکالو اب

کپڑے بدلو جلدی سے

تولیے سے میرے پھر

بال خشک کرتے تم

میرا جسم سہلاتے

اور دھیرے دھیرے پھر

گرم گرم سانسوں سے

لہجہ دھیما پڑ جاتا

میرے گیلے کپڑوں میں

اپنے جسم کی گرمی

اس طرح ملا دیتے

پیاس سے مِری مٹی

بارشوں کو پی کر پھر

جیسے جینے لگتی ہے

ہر دفعہ یہ ہوتا ہے

پہلے تم گرجتے ہو

اور پھر برستے ہو

کیا عجیب اگنی ہے

پانیوں سے لگتی ہے

پانیوں سے بُجھتی ہے

بارشون کے موسم میں

بارشوں کے موسم میں


ثمینہ تبسم

No comments:

Post a Comment