Monday, 7 June 2021

کوئی کمی نہیں ہو گی مگر کمی لگے گی

 کوئی کمی نہیں ہو گی مگر کمی لگے گی

جو اینٹ جھڑ کے گرے گی یہاں وہی لگے گی

ہم اپنی عمر کے آدھے سفر سے لوٹے ہیں

تو کیا اُدھڑتے کواڑوں کو بھی کڑی لگے گی

سفیدیوں سے اٹے شہسوار! دھیان رہے

وہ عام لڑکی ہے لیکن تمہیں پری لگے گی

یہ دیکھ! دور کا چشمہ ہے، ٹھیک ٹھیک سمجھ

تجھے تو یوں بھی مصیبت، بہت بہت بڑی لگے گی

یہ فائدہ ہے پرندوں کے روتے رہنے کا

کہ شاخ، پنجرے کے اندر ہری بھری رہے گی


علی زیرک

No comments:

Post a Comment