دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
تُو ہی تُو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا
قلب مضطر میں مِرے مہر و وفا کی صورت
نور کا ایک جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
جو بہا فرطِ ندامت سے حضوری میں تِری
کتنا وہ اشک گراں تھا مجھے معلوم نہ تھا
لالہ و گل میں فضاؤں میں مہ و انجم میں
تیرا ہی نور نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
باغ ہستی میں جلا میرا وجودِ ہستی
صورتِ فصلِ خزاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
جلی امروہوی
No comments:
Post a Comment