Sunday, 5 September 2021

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

 دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا 

تُو ہی تُو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا

قلب مضطر میں مِرے مہر و وفا کی صورت 

نور کا ایک جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

جو بہا فرطِ ندامت سے حضوری میں تِری

کتنا وہ اشک گراں تھا مجھے معلوم نہ تھا

لالہ و گل میں فضاؤں میں مہ و انجم میں

تیرا ہی نور نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

باغ ہستی میں جلا میرا وجودِ ہستی

صورتِ فصلِ خزاں تھا مجھے معلوم نہ تھا


جلی امروہوی

No comments:

Post a Comment