Monday, 6 September 2021

جتنے بھی دیکھے تھے اب تک سب منظر رکھ آیا ہوں

 جتنے بھی دیکھے تھے اب تک سب منظر رکھ آیا ہوں

اپنی آنکھیں اس کے گھر کی چوکھٹ پر رکھ آیا ہوں

اتنی عجلت میں باندھا تھا رخت سفر اب یاد نہیں

کیا کیا ساتھ میں لے آیا تھا کیا کیا گھر رکھ آیا ہوں

اک مدت سے راج وہاں تھا وحشت اور ویرانی کا

دار و رسن کے دست طلب پر اپنا سر رکھ آیا ہوں

کیا جانے آشفتہ سری خیرات لہو کی کب مانگے

اس کی گلی میں اس لیے پتھر اِدھر اُدھر رکھ آیا ہوں

رات بسر کرنے کو شاید کوئی مسافر آ نکلے

میں یہ سوچ کے گھر کے باہر اک بستر رکھ آیا ہوں


احمد امتیاز

No comments:

Post a Comment