جتنے بھی دیکھے تھے اب تک سب منظر رکھ آیا ہوں
اپنی آنکھیں اس کے گھر کی چوکھٹ پر رکھ آیا ہوں
اتنی عجلت میں باندھا تھا رخت سفر اب یاد نہیں
کیا کیا ساتھ میں لے آیا تھا کیا کیا گھر رکھ آیا ہوں
اک مدت سے راج وہاں تھا وحشت اور ویرانی کا
دار و رسن کے دست طلب پر اپنا سر رکھ آیا ہوں
کیا جانے آشفتہ سری خیرات لہو کی کب مانگے
اس کی گلی میں اس لیے پتھر اِدھر اُدھر رکھ آیا ہوں
رات بسر کرنے کو شاید کوئی مسافر آ نکلے
میں یہ سوچ کے گھر کے باہر اک بستر رکھ آیا ہوں
احمد امتیاز
No comments:
Post a Comment