وہ مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے
فسانہ یاد کرنے کو فسانے ڈھونڈ لیتا ہے
کہے گا یہ، کرے گا وہ، بھلا کیا بات ہے یہ بھی
مقیّد کر کے بانہوں میں زمانے ڈھونڈ لیتا ہے
مِری تشنہ لبی کا کرب اس سے چُھپ نہیں پایا
وہ سانسوں میں چُھپی لَے کے ترانے ڈھونڈ لیتا ہے
فراق اس شخص کا ایسا مِرے دل پر ہوا حاوی
کوئی موقع ہو رونے کا ٹھکانے ڈھونڈ لیتا ہے
مجھے کہتا ہے مجھ سے عشق کر لو ہے ثواب اس میں
ہما!! تائید میں اپنی سیانے ڈھونڈ لیتا ہے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment