یہ گھاؤ میرے دل پہ جو تحفے میں ملا ہے
تظروں کا نشانہ ہے، محبت کی سزا ہے
محفوظ سفینہ لبِ ساحل جو کھڑا ہے
ناکام تلاطم کی نظر تول رہا ہے
دھوکے ہی مِلے مجھ کو محبت میں ہمیشہ
وِشواس میرا دل کی طرح ٹُوٹ چکا ہے
کب جانے مجھے پُھونک دے یہ سر پھری آندھی
میں بھی تو اک چراغ ہوں، یہ مجھ کو پتہ ہے
بچوں کے لگی پیٹ میں جب آگ تو ساگر
مزدور لہو بیچنے بازار چلا ہے
ڈاکٹر وکرم ساگر
No comments:
Post a Comment