Saturday, 2 October 2021

اپنے اس پیار کا اظہار تو کر سکتے تھے

 اپنے اس پیار کا اظہار تو کر سکتے تھے

تم مجھے پہلے خبردار تو کر سکتے تھے 

یہ الگ بات کہ دل اس پہ نہیں تھا تیار 

عشق میں حُسن کو بیمار تو تو کر سکتے تھے

حسرتِ دید  نے چھوڑا ہی نہیں دامنِ دل 

ہم تِرے ہجر سے انکار تو کر سکتے تھے

اس محبت میں تو تلوار اٹھانے سے رہے 

ورنہ دشمن پہ کوئی وار تو کر سکتے تھے

آپ نے بھی تو تڑپتے  ہوئے دیکھا ہے مجھے 

آپ اس بات کا اقرار تو کر سکتے تھے

کس لیے خود تُو مجھے مارنے آیا ہے یہاں 

کام  تیرا یہ مِرے یار تو کر سکتے تھے

جانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا شفیق

آخری بار مجھے پیار تو کر سکتے تھے


شفیق عطاری

No comments:

Post a Comment