Wednesday, 7 June 2023

زہے معمول ثنا، سلسلۂ کار درود

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


زہے معمولِ ثناء، سلسلۂ کارِ درودﷺ

مطمئن ذہن ہے، احساس ہے سرشارِ درودﷺ

روح ڈوبی رہے اک روشنی کے دریا میں

اُفق جاں پہ رہے مطلع انوارِ درودﷺ

سلسلہ نور کا قائم رہے مجھ سے اُنؐ تک

دل و طیبہ کو پروئے رہے یہ تارِ درودﷺ

قلب پر گرتا رہے ’صَلِّ علیٰ‘ کا زمزم

آمد و شد میں نفس کے رہیں، آثارِ درودﷺ

کوئی لمحہ نہ بغیر اُنؐ کی حضوری کے کٹے

ٹوٹنے پائے نہ یہ سلکِ پُر انوارِ درودﷺ

دل ہے تابندگئ ’صَلِّ علیٰ‘ سے روشن

دھڑکن ایک ایک ہوئی آئینہ بردار درودﷺ

ایک اک خوشے سے کھلیان نکلتے ہیں ہزار

رحمتِ حق ہے فراواں سرِانبارِ درودﷺ

نعت کے لحن میں ہے پیش صلٰوۃ اور سلام

اے خوشا ’صَلِّ عَلیٰ‘! لہجۂ اشعارِ درودﷺ

ہو قبول آیا ہے آقا تریؐ چوکھٹ پہ ریاض

اپنی ڈالی میں سجائے ہوئے اثمارِ درودﷺ


ریاض مجید

No comments:

Post a Comment