Sunday, 2 July 2023

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک میں ہی نہیں اُنؐ پر قربان زمانہ ہے​

جو ربِ دو عالم کا محبوبﷺ یگانہ ہے​

کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے​

زہرہؑ کا وہﷺ بابا ہے، سبطینؑ کا نانا ہے​

اس ہاشمیؐ دُولہا پر کونین کو میں وارُوں​

جو حسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے

بازوؤں میں زرا سنبھال مجھے

 بازوؤں میں زرا سنبھال مجھے

اپنے سانچے میں آج ڈھال مجھے

ہو رہی ہوں میں تجھ سے دور بہت

میری جانب زرا اچھال مجھے

ہجر بھاری ہی رہا مجھ پر

خیمۂ جاں سے اب نکال مجھے

میری بعض نظمیں الہامی ہیں

(الہامی نظمیں)


ادب تو سمندر ہے

ایک بحر بے کراں ہے

اس کی ہر موج نئی

اس کی ہر لہر نئی ہوتی ہے

سمندر کا وجود قطروں سے ہے

وفور شوق کا عالم بھی ہے عجب عالم

 وفورِ شوق کا عالم بھی ہے عجب عالم

نہ دیکھنے کی طرح ان کو دیکھتے ہیں ہم

وہ بے رُخی میں بھی صد التفات کا عالم

زہے جنوں کہ سلامت رہا جنوں کا بھرم

تڑپ رہا ہوں، تڑپنے کا ہوش باقی ہے

یہ کم نہیں ہے تِری کم نگاہیوں کی قسم

شعور زیست کو ایسا جگا دیا تم نے

 شعورِ زیست کو ایسا جگا دیا تم نے

دل و نگاہ کو مؤمن بنا دیا تم نے

نقاب اُٹھائی جو رُخ سے تو کُھل گیا سب کچھ

ہر ایک پردہ نظر سے اُٹھا دیا تم نے

جمال اپنا دکھا کر جمالِ یوسف کو

دل و دماغ سے یکسر بُھلا دیا تم نے

کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر

 کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر

کسی نے ڈال تو دی مجھ پہ خودسری کی نظر

خدا کی دَین ہے جس کو دِیا، دِیا اُس نے

نظر یہ عاصی کی ، تو ہے وہ متقی کی نظر

ہے جس کو اپنی ہی گردن کے بال کی نہ خبر

علی السماء ہے دواں اس کی آگہی کی نظر

Saturday, 1 July 2023

تصدق تیری گلیوں کے مدینہ یاد آتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تصدق تیری گلیوں کے مدینہ یاد آتا ہے

جھکاٸے سر کو پھرنا عاجزانہ یاد آتا ہے

بِتاٸے گنبدِ خضرا کے سائے میں وہ سارے پل

نبیﷺ کے شہر میں گزرا زمانہ یاد آتا ہے

حرم کو چُومتی نظریں ہوں کعبہ کی زیارت ہو

عرب کی سر زمیں کا ہر نگینہ یاد آتا ہے