سارے روشن ستارے بکھرنے لگے
حرف ظلمات بن کر اترنے لگے
جیسے سب سورجوں کو گُہن لگ گیا
کارواں جنگلوں سے گزرنے لگے
ایسی دہشت کی آندھی چلی شہر میں
گونگے خط آ رہے ہیں مِرے نام اب
جیسے الفاظ گھُٹ گھُٹ کے مرنے لگے
جانے کن راہوں سے ہو کے آئے ہیں ہم
فارغؔ انگ انگ میں خوں کے جھرنے لگے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment