Wednesday, 24 March 2021

یادوں کی کتابوں سے ذرا گرد جھڑی ہے

 یادوں کی کتابوں سے ذرا گرد جھڑی ہے

لو سامنے اک اور قیامت کی گھڑی ہے

وہ مجھ سے مخاطب تھا مگر سرد تھا لہجہ

کیا شہرِ محبت میں کہیں برف پڑی ہے؟

برسوں کا تِرا ساتھ کہاں مانگ رہے ہیں

ہم کو تو محبت کی یہ ساعت ہی بڑی ہے

وہ شخص چُرا لے گیا سورج کے اجالے

اک میرے دریچے میں وہی شام کھڑی ہے

آنسو جو بڑی دیر سے ٹھہرا ہے پلک پر

لگتا ہے کسی دورِ ندامت کی کڑی ہے

برسات کی بوندیں، یہ سُلگتا ہوا آنچل

یاں حشر بپا ہے تمہیں دفتر کی پڑی ہے

آنکھوں کی شرارت سے کوئی خواب نہ جاگے

یہ کھیل تو اچھا ہے، مگر شرط کڑی ہے


صائمہ کامران

No comments:

Post a Comment