Monday, 6 September 2021

وہ آنکھوں میں اتر کر دیکھتا ہے

 وہ آنکھوں میں اتر کر دیکھتا ہے

سمندر ہے سمندر دیکهتا ہے

سجے لمحوں سے منظر دیکھتا ہے

مجھے جب وہ برابر دیکهتا ہے

سرِ محفل ہے اس کا دیکھنا یوں

نہیں وہ دیکھتا پر دیکهتا ہے

کمی ہوتی ہے کوئی گھر کے اندر

وگرنہ، کون باہر دیکهتا ہے

تجلی دیکھتی ہے کب پیمبر

تجلی کو پیمبر دیکھتا ہے

تِرے دشتِ کشادہ کا ہنر ہے

تجھے اب تک گداگر دیکھتا ہے

مِرا صیاد پنجرے میں فقط اب

مِرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکهتا ہے

یہاں رُک جاتی ہیں نظریں بدن پر

کوئی کب دل کے اندر دیکهتا ہے

دِیا بھی لو بڑھا دیتا ہے اپنی

ہوا کے جب یہ تیور دیکهتا ہے


شازیہ نورین

No comments:

Post a Comment