وہ آنکھوں میں اتر کر دیکھتا ہے
سمندر ہے سمندر دیکهتا ہے
سجے لمحوں سے منظر دیکھتا ہے
مجھے جب وہ برابر دیکهتا ہے
سرِ محفل ہے اس کا دیکھنا یوں
نہیں وہ دیکھتا پر دیکهتا ہے
کمی ہوتی ہے کوئی گھر کے اندر
وگرنہ، کون باہر دیکهتا ہے
تجلی دیکھتی ہے کب پیمبر
تجلی کو پیمبر دیکھتا ہے
تِرے دشتِ کشادہ کا ہنر ہے
تجھے اب تک گداگر دیکھتا ہے
مِرا صیاد پنجرے میں فقط اب
مِرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکهتا ہے
یہاں رُک جاتی ہیں نظریں بدن پر
کوئی کب دل کے اندر دیکهتا ہے
دِیا بھی لو بڑھا دیتا ہے اپنی
ہوا کے جب یہ تیور دیکهتا ہے
شازیہ نورین
No comments:
Post a Comment