اڑنے لگی تھی چاندنی بن کر خزاں کی دُھول
ہم نے دبائے آگ میں کن حسرتوں کے پھول
پاؤں کے پھیر نے کیا ماتھے کو زرد خار
تازہ گلوں کی پیاس نے لب کر دئیے ببول
اُجلی نِگہ کا تیر بھی عاری نہ کر سکا
روتی زباں نے بھر دئیے قصوں میں سُرخ سول
پانی کے بلبلے میں بچھی زیست کی بساط
پھر اس تہی انار میں غم نے کیا نزول
مُرغابیوں کے پیر سے باندھی عدم کی موج
اس آبی آسماں کو دیا پھر نفس کا طول
یہ بے مہار اُونٹنی شعروں کی دیکھیے
کرتی ہے کیا غزال کی آنکھوں سے جھول جھول
ارسلان راٹھور
No comments:
Post a Comment