Sunday, 5 September 2021

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے

 یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے

سکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہے

وہ آدمی جو ہمیشہ مِرے خلاف رہا

اسی کی مجھ پہ حکومت دکھائی دیتی ہے

محبتیں ہی سکھاتی ہیں ہر سبق لیکن

بہت سے درس ہمیں بے وفائی دیتی ہے

یہ انگلیاں ہی قلم بن کے چلنے لگتی ہیں

یہ چشمِ نم ہی مجھے روشنائی دیتی ہے

کسی کے عشق نے یوں دل کو کردیا روشن

کہ روشنی سی ہر اک سو دکھائی دیتی ہے

سلوک ایک سا کرتی نہیں ہے الفت بھی

ملن کسی کو کسی کو جدائی دیتی ہے

نہیں ہے دور مِری روح کے قریب ہے وہ

جھلک اسی کو تو مجھ میں دکھائی دیتی ہے

نہ ایسی دنیا سے امید اے ولا رکھنا

جو نیکیوں کے صلے میں برائی دیتی ہے


ولاء جمال العسیلی

No comments:

Post a Comment