آہ رہ جاتی ہے یا فریاد رہ جاتی ہے بس
لوگ تو مرتے ہیں روداد رہ جاتی ہے بس
آج بھی وہ شرطِ جوئے شیر ہے پیش نظر
اب بھی دل میں خواہشِ فرہاد رہ جاتی ہے بس
عزت و تکریم وہ اپنے بڑوں کی کیوں کریں
تربیت سے دور جو اولاد رہ جاتی ہے بس
یہ تیرا معیار ہے، یا پھر انا کی چال ہے
اک مِرے شعروں پہ تیری ذات رہ جاتی ہے بس
کاش کوئی مر کے بھی اک دوسرے سے مل سکے
دل میں ایسی صورتِ ایجاد رہ جاتی ہے بس
ہر کوئی کہتا مجھ سے اس شہر میں اب تو خلیل
وہ غزل اچھی ہے جو کہ یاد رہ جاتی ہے بس
خلیل مرزا
No comments:
Post a Comment