Sunday, 5 September 2021

آہ رہ جاتی ہے یا فریاد رہ جاتی ہے بس

 آہ رہ جاتی ہے یا فریاد رہ جاتی ہے بس 

لوگ تو مرتے ہیں روداد رہ جاتی ہے بس

آج بھی وہ شرطِ جوئے شیر ہے پیش نظر

اب بھی دل میں خواہشِ فرہاد رہ جاتی ہے بس

عزت و تکریم وہ اپنے بڑوں کی کیوں کریں 

تربیت سے دور جو اولاد رہ جاتی ہے بس

یہ تیرا معیار ہے، یا پھر انا کی چال ہے

اک مِرے شعروں پہ تیری ذات رہ جاتی ہے بس 

کاش کوئی مر کے بھی اک دوسرے سے مل سکے

دل میں ایسی صورتِ ایجاد رہ جاتی ہے بس

ہر کوئی کہتا مجھ سے اس شہر میں اب تو خلیل

وہ غزل اچھی ہے جو کہ یاد رہ جاتی ہے بس


خلیل مرزا

No comments:

Post a Comment