چڑھتے ہوئے سورج کا پرستار ہُوا ہے
مسلک یہی دنیا کا مِرے یار ہوا ہے
مطلوب رہی خوشیاں زمانے کو ہمیشہ
کب کون یہاں غم کا طلبگار ہوا ہے
جس نے بھی کیا وِرد اناالحق کا یہاں پر
دنیا کی نظر میں وہ گنہ گار ہوا ہے
جو تاج محل سپنوں میں تعمیر کیا تھا
جب آنکھ کھلی میری وہ مسمار ہوا ہے
کانٹوں کی یہاں داد رسی کون کرے گا
ہر بندہ ہی پھولوں کا طرفدار ہوا ہے
حقدار رعایت کا کسی طور نہیں وہ
جو شخص محبت کا خطا وار ہوا ہے
ہر رستے کی دیوار گرائی میں نے جس کی
اب وہ ہی مِری راہ کی دیوار ہوا ہے
کیا پوچھتے ہو اس کے میاں وعدے کا انجام
وہ ہی ہوا انجام جو ہر بار ہوا ہے
سینچا ہے اسے خونِ جگر سے میں نے راحل
یونہی تو نہیں پیڑ ثمر بار ہوا ہے
علی راحل
No comments:
Post a Comment