Sunday, 5 September 2021

محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے

 محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے 

جسے ہم پیار کرتے ہیں اسی سے چوٹ لگتی ہے 

ضرورت سے زیادہ گفتگو اچھی نہیں لگتی 

ضرورت سے زیادہ خامشی سے چوٹ لگتی ہے 

مجھے بے خواب راتوں سے کوئی شکوہ نہیں پھر بھی 

اندھیرا ڈستا ہے اور چاندنی سے چوٹ لگتی ہے

شکستہ اور سُونی کھڑکیاں آوازے کستی ہیں 

گزرتا ہوں میں جب اس کی گلی سے چوٹ لگتی ہے 

تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو تو حیران مت ہونا 

کسی سے ملتی ہے راحت کسی سے چوٹ لگتی ہے

یہاں سب اپنی فطرت کے سبب پہچانے جاتے ہیں 

شکاری ذہنیت کو سادگی سے چوٹ لگتی ہے 

کبھی حیران رہ جاتا ہوں ظالم کی جسارت پر 

کبھی معصوم اپنی بزدلی سے چوٹ لگتی ہے


معصوم انصاری

No comments:

Post a Comment