Sunday, 5 September 2021

آنسو ہمارے ساتھ بہاتا رہا ہے چاند

آنسو ہمارے ساتھ بہاتا رہا ہے چاند

بس رات بھر ستم یہی ڈھاتا رہا ہے چاند

تارہ گواہ تم ہو کہ ہم نے نہیں کہا

آنگن ہمارا خود ہی سجاتا رہا ہے چاند

آئینہ بن گیا ہے کبھی رات کے سمے

بیتے دنوں کا عکس دکھاتا رہا ہے چاند

گردش میں رہ کے رات کو نیلے گگن تلے

جینے کے ڈھنگ ہم کو سکھاتا رہا ہے چاند

اکثر اداس رات میں خاموش رہ کے بھی

ماضی کی یاد ہم کو دلاتا رہا ہے چاند

افسانۂ حیات بہت مختصر سہی

افسانۂ حیات سناتا رہا ہے چاند

اکثر ہم اس کی اور بہت دیکھتے رہے

ہم کو تو بچپنے سے ہی بھاتا رہا ہے چاند

ماضی کے واقعات بہت یاد آئے ناز

یوں اپنی چاندنی سے رلاتا رہا ہے چاند


شہناز نقوی

No comments:

Post a Comment