آنسو ہمارے ساتھ بہاتا رہا ہے چاند
بس رات بھر ستم یہی ڈھاتا رہا ہے چاند
تارہ گواہ تم ہو کہ ہم نے نہیں کہا
آنگن ہمارا خود ہی سجاتا رہا ہے چاند
آئینہ بن گیا ہے کبھی رات کے سمے
بیتے دنوں کا عکس دکھاتا رہا ہے چاند
گردش میں رہ کے رات کو نیلے گگن تلے
جینے کے ڈھنگ ہم کو سکھاتا رہا ہے چاند
اکثر اداس رات میں خاموش رہ کے بھی
ماضی کی یاد ہم کو دلاتا رہا ہے چاند
افسانۂ حیات بہت مختصر سہی
افسانۂ حیات سناتا رہا ہے چاند
اکثر ہم اس کی اور بہت دیکھتے رہے
ہم کو تو بچپنے سے ہی بھاتا رہا ہے چاند
ماضی کے واقعات بہت یاد آئے ناز
یوں اپنی چاندنی سے رلاتا رہا ہے چاند
شہناز نقوی
No comments:
Post a Comment