Thursday, 6 July 2023

کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل

 کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شبِ وصل

میرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصل

جیب کے پرزے اڑے پھٹ گئی محرم شب وصل

میرے ان کے رہا کچھ اور ہی عالم شب وصل

جی میں ہے کہئے موذن سے یہ ہمدم شب وصل

یوں نہ چیخا کرو اے قبلۂ عالم شب وصل

وہ نہ سوئے ہوں جدا یا نہ لڑے ہوں ہم سے

اس طرح کی ہوئی صحبت تو بہت کم شب وصل

صبح ہوتے ہی مجھے اشکوں سے منہ دھونا ہے

مجھ سے آنکھیں نہ چرا دیدۂ پُر نم شب وصل


حاتم علی مہر

No comments:

Post a Comment