Friday, 6 January 2017

یہ آسمان کوئی فسانہ تو ہے نہیں

یہ آسمان کوئی فسانہ تو ہے نہیں
ہم اس کو دیکھتے ہیں گرانا تو ہے نہیں
پہنیں گے خاکدان کا زربفت پیرہن
یاروں نے اس کا دام چکانا تو ہے نہیں
مٹھی میں ایک زہر ہے دنیا کہیں جسے
سب سے چھپائے پھرتے ہیں کھانا تو ہے نہیں
مانگا ہے عشق بھی من و سلوٰی کے نام پر
اترے گا آسماں سے کمانا تو ہے نہیں
دو چار لوگ ہیں جو مِری آستیں میں ہیں
میرے خلاف سارا زمانہ تو ہے نہیں
گھر جانا چاہتے ہیں کہ مدت ہوئی گئے
کہنے کی اور بات ہے جانا تو ہے نہیں
کہتا ہوں عشق سے کہ مِری جان چھوڑ دے
لگتا ہے مان جائے گا مانا تو ہے نہیں
کیا علم چارسو سے نکل جائے کس طرف
آوارگی کا کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment