Monday, 20 July 2020

بس ایک بار مرے ساتھ گھر گیا سورج

بس ایک بار مِرے ساتھ "گھر" گیا سورج
پھر اس کے بعد اندھیروں سے ڈر گیا سورج
نجانے "کون" سی "خفت" اٹھائے پھرتا تھا
سنا ہے "شام" کی چوکھٹ پہ مر گیا سورج
تمہاری شام بھی روشن صبیح اجالوں سی
ہمیں تو "صبح" دکھا کر "اتر" گیا سورج
تمہاری آنکھ سے ٹوٹا تھا اشک کی صورت
ہماری "مانگ" میں آ کر "ٹھہر" گیا سورج
ہماری رات کے تارے تو چھن چکے لیکن
ہمارے "پیڑ" پرندوں سے بھر گیا سورج
یہاں پہ "چاند" کا آ کر "غرور" ٹوٹا تھا
ہمارے گھر سے جو گزرا، سنور گیا سورج
خراج مانگنے آیا تھا مجھ سے اشکوں کا
سمجھ کے ان کو سمندر، اتر گیا سورج
تمہاری یاد میں پہلے بھی شام ویراں تھی
اداسی اور بھی منظر میں بھر گیا سورج
کسی کے ہاتھ سے توڑی سہاگ کی چوڑی
کسی کی "مانگ" سجا کر "اتر" گیا سورج
بجا کہ "چاند" گریزاں رہا، مگر ایماں
بغیر "آنکھ" ملائے "گزر" گیا سورج؟

ایمان قیصرانی

No comments:

Post a Comment