Tuesday, 21 July 2020

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

نظر ملی تو "نظاروں" میں بانٹ دی میں نے
یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے
بس ایک "شام" بچی تھی تمہارے حصے کی
مگر وہ شام بھی یاروں میں بانٹ دی میں نے
جناب! قرض چکایا ہے یوں "عناصر" کا
کہ زندگی انھی چاروں میں بانٹ دی میں نے
پکارتے تھے برابر مجھے "سفر" کے لیے
متاعِ خواب سواروں میں بانٹ دی میں نے
ہَوا "مزاج" تھا، کرتا بھی کیا "سمندر" کا
اک ایک لہر کناروں میں بانٹ دی میں نے

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment