Wednesday, 10 February 2021

دیکھ کر سارے تماشوں کو بجھا دی آنکھیں

 دیکھ کر سارے تماشوں کو بجھا دی آنکھیں 

رقص میں آئے جو منظر تو جگا دی آنکھیں 

وہ جہاں شہرِ طلسمات اجڑ جاتے  ہیں 

ہم نے اس خواب نگر جا کے بچھا دی آنکھیں 

آنکھ والوں کی سرِ عام جو ذِلت دیکھی 

ہم نے چپ چاپ کتابوں میں چھپا دی آنکھیں 

روٹھ کر ہاتھ تھے بے تاب مِرے دستک کو 

اپنے دروازے پہ اس نے بھی لگا دی آنکھیں

جانے کیا نیند تھی عمروں کا سکوں جاتا رہا 

جانے کیا خواب تھا جس نے یہ بجھا دی آنکھیں 

زندگی مانگنے آیا تھا کوئی در پہ افق 

مسکراتے ہوئے میں نے بھی جھکا دی آنکھیں 


شمامہ افق

No comments:

Post a Comment