دیکھ کر سارے تماشوں کو بجھا دی آنکھیں
رقص میں آئے جو منظر تو جگا دی آنکھیں
وہ جہاں شہرِ طلسمات اجڑ جاتے ہیں
ہم نے اس خواب نگر جا کے بچھا دی آنکھیں
آنکھ والوں کی سرِ عام جو ذِلت دیکھی
ہم نے چپ چاپ کتابوں میں چھپا دی آنکھیں
روٹھ کر ہاتھ تھے بے تاب مِرے دستک کو
اپنے دروازے پہ اس نے بھی لگا دی آنکھیں
جانے کیا نیند تھی عمروں کا سکوں جاتا رہا
جانے کیا خواب تھا جس نے یہ بجھا دی آنکھیں
زندگی مانگنے آیا تھا کوئی در پہ افق
مسکراتے ہوئے میں نے بھی جھکا دی آنکھیں
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment