Monday, 8 March 2021

تری نگاہ سے جب بھی مری نگاہ ملی

 تِری نگاہ سے جب بھی مِری نگاہ ملی

مجھے تو گردشِ ایام سے پناہ ملی

ہمیں تو تیرے تبسم پہ جان دینی ہے

کلی کلی کو جو دیکھا تیری گواہ ملی

رہِ وفا میں تِرے غم کی بخششیں کیا خوب

دلوں کو سوز ملا ہے، لبوں کو آہ ملی

مجھے تو صرف یہ کہنا ہے اپنے دل کیلئے

بھٹکنے والی وفا کو قیام گاہ ملی

نہ جانے جائے کہاں لے کے دل کی بیتابی

قدم قدم پہ مجھے یوں تو جلوہ گاہ ملی

عجیب حال میں رہتے ہیں فن کے مارے بھی 

زباں امیر ملی، زندگی تباہ ملی


شمسی مینائی

No comments:

Post a Comment