Tuesday, 10 August 2021

نیا لہجہ غزل کا مصرع ثانی میں رکھا ہے

 نیا لہجہ غزل کا مصرعِ ثانی میں رکھا ہے

ہوا کو مٹھیوں میں آگ کو پانی میں رکھا ہے

نہ جانے کیا سمجھ کر چکھ لیا تھا دانۂ گندم

ابھی اک بھول نے اب تک پشیمانی میں رکھا ہے

وطن سے دور ہوں میں رزق کی خاطر مِرے مولا

مگر بستی کو تیری ہی نگہبانی میں رکھا ہے

سفر میں بھی ڈرامائی عناصر کام آئے ہیں

زباں کی چاشنی سے سب کو حیرانی میں رکھا ہے

مہذب شہر کے لمبے سفر سے لوٹ آیا ہوں

سلیقہ زندگی کا گھر کی ویرانی میں رکھا ہے

غزل کہنے کا موسم قاسمی اب ہو گیا رخصت

سکون قلب تو اس کی ثنا خوانی میں رکھا ہے


شمیم قاسمی

No comments:

Post a Comment