Wednesday, 11 August 2021

خود کو مجنوں کبھی فرہاد کیا ہے میں نے

 خود کو مجنوں کبھی فرہاد کِیا ہے میں نے

وقت اپنا بڑا برباد کیا ہے میں نے

کام یہ بھی مِرے صیاد کیا ہے میں نے

خوف دل سے تِرا آزاد کیا ہے میں نے

ایک پتھر صفت انساں سے محبت کر کے

اے غمِ دل! تجھے ایجاد کیا ہے میں نے

شاخِ دل پر تِری یادوں کا بسیرا کیوں ہے

ان پرندوں کو تو آزاد کیا ہے میں نے

یوں کِھلایا ہے تِرے دل میں محبت کا گلاب

دشت ایسے کوئی آباد کیا ہے میں نے

اک عبادت سے کہاں کم ہے محبت میری

تجھ کو آیت کی طرح یاد کیا ہے میں نے

تجھ کو دنیا کے تماشوں سے بچنے کے لیے

جانے کیا کیا مِری اولاد کیا ہے میں نے

حکمرانی پہ جسے ناز بہت تھا خالد

اس کو آمادۂ فریاد کیا ہے میں نے


خالد اخلاق

No comments:

Post a Comment