Saturday, 14 August 2021

دشت و دریا چھان کے چپ رہ گیا

 دشت و دریا چھان کے چُپ رہ گیا

ریگِ صحرا تان کے چپ رہ گیا

تشنگی ایسی غضب کی تھی مگر

بات تیری مان کے چپ رہ گیا

جیت سکتا تھا مقدر سے تمہیں

میں بہت کچھ ٹھان کے چپ رہ گیا

زندگی تیری طلب کا نام ہے

تم پہ جیون دان کے چپ رہ گیا

ورنہ دریا بھی بھسم کر ڈالتا

دل کو اپنا جان کے چپ رہ گیا

حرف آتا عشق پر خاور اگر

بس یہیں پر آن کے چپ رہ گیا​


خاور چودھری

No comments:

Post a Comment