Wednesday, 11 August 2021

حیدر کے نور عین فلک بارگاہ کی

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام


حیدرؑ کے نورِ عین فلک بارگاہ کی

کیونکر ثنا ہو جانِ رسالت پناہ کی

توقیر ایسی کب کسی زریں کلاہ کی

جیسی ہے کربلائے معلیٰ کے شاہ کی

سیرت نہ پوچھ مجھ سے مِرے قبلہ گاہ کی

ہے تربیت جنابِ رسالتؐ پناہ کی

صورت جو دیکھیۓ تو زہے بادشاہ کی

دل دیکھیۓ تو بُو بھی نہیں حُبِ جاہ کی

صبر و رضا کا پیکرِ دلکش وہ اس قدر

اہلِ زمیں تو خیر، فرشتوں نے واہ کی

دینِ ہدیٰ پہ اپنا بھرا گھر لٹا دیا

ہمت یہ دیکھنا ذرا شاہوں کے شاہ کی

وہ داستاں کہ سنگ کا دل پاش پاش ہو

وہ واقعہ کہ جس نے سنا دل سے آہ کی

اپنی نہ اہلِ بیت کی پرواہ کی ذرا

پرواہ کی تو عشقِ رسالت پناہ کی

وہ خوش نصیب آپ کے ہمراہ ہو گئے

جنت کو دیکھتے تھے جو خدمت میں شاہ کی

جنگاہِ کربلا میں بڑا کام کر گئے

تعداد گرچہ کم تھی حسینی سپاہ کی

دشمن کہ بے سبب ہی نبرد آزما ہوئے

ان ظالموں نے عاقبت اپنی تباہ کی

اعدائے دِیں نے کارِ لعِیں وہ کیا کہ بس

سیاہی بڑھائی اور بھی بختِ سیاہ کی

رحمت نہ یہ گناہِ کبیرہ کرے معاف

ہوتی ہے انتہا کوئی آخر گناہ کی

خونیں ردا حسین کی فطرت اب اوڑھ کر

چہرہ نما شفق میں ہے شام و پگاہ کی

یہ داستانِ شاہِ شہیدانِ کربلا

تفسیرِ بے نظیر بھی ہے لا الٰہ کی

دل پاش داستانِ الم کی نہیں مثال

تاریخ میں نظر نے جہاں تک نگاہ کی


نظر لکھنوی​

(محمد عبدالحمید صدیقی)

No comments:

Post a Comment