محبت سے پہلے
کسی روپ میں دلکشی نے بسیرا کیا ہی نہیں تھا
نئی زندگی اور نئے روز و شب میں
نئے سلسلوں میں سجی ہیں بہاریں
محبت سے پہلے تو کچھ بھی نہیں تھا
میں شیشے کی دیوار میں قید ہوں
یہی آب و گِل ہے، یہی سبزہ و گُل
انہی پتھروں میں مجھے ڈھونڈنا ہے
وہ نغمہ کہ جس سے رواں ہے یہ پانی
مِری آگ پانی میں رکھ دی گئی ہے
لیکن کسے فرصت ہے؟
رک کر وہ ہمیں تھامے
اور کون ہے جو روکے؟
ہر ایک کی دنیا کے
کچھ اپنے مسائل ہیں
تمہاری ضرورت سے میں آشنا ہوں
مِرے سحر سے تم مگر بے خبر ہو
بتائے دنوں کو بدلنے کی قیمت
وہ دن ہیں، ابھی منکشف جو نہیں ہیں
فزوں تر ہے تم سے، تمہارا تخیل
تمہاری آنکھ کے روشن ستارے نے
مہ و مہر و فلک کے استعارے نے
تمناؤں کے دھارے نے
تمہارے خواب نے بے خواب آنگن کو اجالا ہے
مگر یہ خواب
یہ تعبیر سے ناآشنا سپنا
زاہد منیر عامر
No comments:
Post a Comment