کوئی بھی چیز یہاں راس نہ آئی مجھ کو
زندگی! تُو نے عجب راہ دکھائی مجھ کو
تھام لے ہاتھ اگر تُو تو یہ دھڑکن ہو رواں
تُو جو مل جائے تو مل جائے خدائی مجھ کو
کیسے چھوڑوں، کہ محبت ہے عقیدہ میرا
موت ہی دے گی عقیدے سے رہائی مجھ کو
وادئ حسن میں بیٹی! تیرا زیور ہے حیا
بس یہی بات میری ماں نے سکھائی مجھ کو
دشتِ ہجراں کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوں کرن
بِن تیرے کچھ نہیں دیتا ہے سُجھائی مجھ کو
کرن ہاشمی
No comments:
Post a Comment