Thursday, 16 September 2021

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

 دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ

ہم اہلِ درد پکارے گئے صحیفوں میں

ہم اہلِ عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ

پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی

پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ

ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں

سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب کے ساتھ

ہوا نے سادھ لی چپ، رات نے دعا مانگی

ستارہ سہما رہا، بجھتے آفتاب کے ساتھ

مکالمہ رہا جاری ہماری آنکھوں کا

بدن کی شاخ پہ کھلتے ہوئے گلاب کے ساتھ

کچھ اور چاہیۓ تشنہ لبی مٹانے کو

یہ پیاس وہ ہے جو بجھتی نہیں شراب کے ساتھ

زعیم وہ مِری دریا دلی سے ڈرتا ہے

وہ مجھ سے ملتا ہے لیکن بڑے حساب کے ساتھ


زعیم رشید

No comments:

Post a Comment