حادثوں سے جب تِری پہچان ہوتی جائے گی
زندگی آسان سے آسان ہوتی جائے گی
اپنے مطلب کے لیے دنیا ہنسائے گی تجھے
پھر تِرے رونے کا خود سامان ہوتی جائے گی
جس پہ رک کر لے رہا ہے تُو جوانی کے مزے
وہ سڑک آگے بہت سنسان ہوتی جائے گی
شوقِ آسائش میں پڑ کر ہم نے یہ سوچا نہ تھا
اچھی خاصی زندگی ویران ہوتی جائے گی
کل تجھے ڈھونڈے گی دنیا جب تِرے اشعار میں
دیکھ کر فنکاریاں حیران ہوتی جائے گی
اشفاق انصاری
No comments:
Post a Comment