Saturday, 4 September 2021

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی

 آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی

یاد اس کی مجھے تنہا نہیں رہنے دیتی

لذتِ در بدری میں بڑی وسعت ہے کہ یہ

در و دیوار کا جھگڑا نہیں رہنے دیتی

گھر ہو یا رونقِ بازار کہیں بھی جاؤں

بے قراری تو کسی جا نہیں رہنے دیتی

بند کر لوں تو عجب نقش نظر آتے ہیں

آنکھ محرومِ تماشا نہیں رہنے دیتی

خواہشِ زر کی ہوا دل کے سیہ خانے میں

اک دِیا ہے جسے جلتا نہیں رہنے دیتی


فراست رضوی

No comments:

Post a Comment