Sunday, 5 September 2021

کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں

 کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں

تم کو بلا رہی ہیں یہ چنچل سی چوڑیاں

ساون کی مجھ کو پیاس ہے پیاسی ہوں مثل ریت

تجھ پر برس رہی ہیں یہ بادل سی چوڑیاں

کرتی ہیں خوب شور نہ سونے یہ مجھ کو دیں

دیوانی ہو گئی ہیں یہ پاگل سی چوڑیاں

دیکھو کھنک رہی ہیں یہ خاموشیوں میں بھی

آنکھوں میں سج رہی ہیں یہ جل تھل سی چوڑیاں

پل پل یہ چھو رہی ہیں مِرا جسم اور بدن

کرتی ہیں مجھ کو تنگ یہ سانول سی چوڑیاں

اے شاہ دل سہاگ نشانی ہماری ہیں

پیاری ہیں مجھ کو جان سے پرپل سی چوڑیاں

خوشبو مرے بدن کی چراتی ہیں روز و شب

دیکھو دعا کمال ہیں صندل سی چوڑیاں


دعا علی

No comments:

Post a Comment