Sunday, 5 December 2021

آئینہ اپنے روبرو کر کے

 آئینہ اپنے رو برو کر کے

کیا ملا ہم کو گفتگو کر کے

اپنے رستے میں خار خود بوئے

ہم نے خوشیوں کی آرزو کر کے

ماسوا درد کے ملا کیا ہے؟

دنیا والوں سے گفتگو کر کے

ایک دل تھا جو ہو گیا پتھر

اپنے ارمانوں کا لہو کر کے

کٹ ہی جائے گی زندگی اپنی

دامنِ چاک کو رفو کر کے

شازیہ کس کو ہم کہیں اپنا

رو دئیے آج آرزو کر کے


شازیہ طارق

No comments:

Post a Comment