سکھی کو خط لکھا ہے آج
سکھی میں سوچتا رہتا تھا تم کو خط لکھوں کوئی
مگر اب آسمانوں سے پرے میرا پھٹا سا خط تمہیں پہنچانے جائے کون
سکھی ایسا کوئی بھی ڈاک خانہ مل نہیں پایا
سکھی شاید یہ خط تم کو ملے گا ہی نہیں لیکن
میں ان لفظوں کو تھوڑا فیض دینے کی بہت ناکام کوشش تو کروں گا ہی
سکھی پھر آج ہمت کی ہے لکھنے کی
کئی لفظوں کی منت کی
یہی کچھ ہیں جو خوش بختی سمیٹیں گے تِری آنکھوں کو تکنے کی
فلاحی راستوں پر گامزن ہوں گے
سکھی ناراض رہتی ہو؟
کوئی بھی بات کرتی ہی نہیں مجھ سے
سنا ہے چاند جب تم کو مِری باتیں سناتا ہے تو چہرہ موڑ لیتی ہو
سکھی اب اتنی ناراضی بھی ہوتی ہے
ملن کے دن وہ سب منحوس نیندیں میں بلا کر تو نہیں لایا
سکھی وہ خواب بھی خود ہی پلٹ آئے تھے
اس ہی روز جب تم سے ملن کی بات کرنی تھی
سکھی اور خواب بھی پیارے تمہارے جیسے ہی بلکل
ملن کی ایک صورت خواب بھی تو ہیں
تو پھر اب تم یہ ناراضی مٹا دو ناں
سکھی بے چین رہتی ہو ؟
اداسی کے بہت ہی پار جا کر بھی زمیں والوں کے جیسی ہی
اداسی کو سجا کر کیوں رکھا بولو
سکھی نادان ہو کتنی
ستاروں کو مری باتیں بتانے میں ذرا بھی دیر کرتی ہی نہیں ہو تم
کبھی جگنو کی روشن دار صورت دیکھ کے حیران ہو جاتی ہو
اے بھولی سکھی تم شاہزادی ہو
پرستانوں میں بسنے والی سب سے خوبصورت شاہزادی ہو
سکھی درویش لگتی ہو، بہت معصوم لگتی ہو
مری میٹھی سی باتوں میں چلی آتی ہو چٹکی میں
سکھی لیکن تمہاری خوبیوں کی ایک خوبی بھی نہیں مجھ میں
سکھی پرُ چین رہتا ہوں
سکھی چالاک بھی ہوں میں
سکھی ناراض بھی ہوتا نہیں اب میں کسی سے بھی
نجانے پھر بھی قسمت نے تمہی سے کیوں ملایا تھا
مگر پھر چھیننے میں بھی، چلو چھوڑو
سکھی المختصر اتنا
کہ یہ بے چین خط لکھنے کا مقصد تھا نہیں کوئی
یونہی اک نظم لکھنی تھی
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment