Sunday, 14 May 2023

میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

 ماؤں کے عالمی دن پر


جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی

میں نے پھر کس کے لیے شمع جلا رکھی تھی

رکھ دیا ان کو بھی جھولی میں ستم گاروں کی

میں نے جن ہاتھوں سے بنیاد وفا رکھی تھی

جانتا کون بھلا کیسے کسی کے حالات

وقت نے بیچ میں دیوار اٹھا رکھی تھی

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

میری شہ رگ پہ مِری ماں کی دعا رکھی تھی

کس لیے مجھ کو نہ سولی پہ چڑھایا جاتا

منصفوں نے یہ مِرے سچ کی سزا رکھی تھی


نظیر باقری

No comments:

Post a Comment