کیسے بھولوں یہ میرے بس میں نہیں
مجھ سے ناطے وہ تیرے بس میں نہیں
ایک میلہ ہے گہما گہمی کا
یہ غموں کے اندھیرے بس میں نہیں
نہ دِیا، نہ چراغ ہے کوئی
میرے گھر کے اندھیرے بس میں نہیں
سُوکھی ٹہنی پہ سُوکھے پتوں کے
عارضی ہیں بسیرے بس میں نہیں
کیسے گزرے گی زندگی ساری
ڈستی شامیں، سویرے بس میں نہیں
بارشوں کا بھی بوجھ تھا ان پر
اشک اتنے گھنیرے بس میں نہیں
میں اکیلا ہوں ساری دنیا میں
رشتے ناطے یہ میرے بس میں نہیں
شہر ڈُوبے ہیں بستیاں ڈُوبیں
کیا کریں یہ وڈیرے بس میں نہیں
میرے بس میں تو کچھ نہیں بزمی
راتیں بے بس سویرے بس میں نہیں
شبیر بزمی
No comments:
Post a Comment