ماؤں کے عالمی دن پر
مِری ماں مجھ کو سینے سے لگا لو، تھک گئی ہوں میں
بھنور کے بیچ سے مجھ کو نکالو، تھک گئی ہوں میں
تھکن سے چُور ہے میرا بدن، اور دل بھی گھائل ہے
مجھے اک رات اپنے پاس سُلا لو، تھک گئی ہوں میں
مجھے پریوں کی باتوں، پیار کی گھاتوں میں الُجھاؤ
کبھی تو اپنے زانو پر لٹا لو، تھک گئی ہوں میں
بہت سے خواب ریزہ ریزہ ہو کے مجھ کو چُبھتے ہیں
مجھے ان کی اذیت سے بچا لو، تھک گئی ہوں میں
کہوں کس سے کہ دل پہ کیسے کیسے رنج سہتی ہوں
مجھے تم اپنی بانہوں میں چُھپا لو، تھک گئی ہوں میں
مجھے معلوم ہی کب تھا کہ جیون ہے گھنا جنگل
اندھیرے سے مجھے آ کر نکالو، تھک گئی ہوں میں
مجھے کیوں بھول بیٹھی ہو، میری آواز تو سُن لو
مجھے آ کر کلیجے سے لگا لو، تھک گئی ہوں میں
تبسم اخلاق آفریدی
تبسم اخلاق ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment