Friday, 7 June 2013

جادہ راہ عدم ہے رہ کاشانہ عشق

جادۂ راہِ عدم ہے رہِ کاشانۂ عشق
 ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
 مرکزِ خاک ہے دُردِ تہِ پیمانۂ عشق
 آسماں ظرف بر آوردۂ میخانۂ عشق
کم بلندی میں نہیں عرش سے کاشانۂ عشق
 دونوں عالم ہیں دو مصرع درِ خانۂ عشق

Monday, 3 June 2013

ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو؟
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟
تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیں
وہ ساعتِ خوش وقت نشاطِ گزراں کی

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رُخساروں سے رنگینئ حُسن کو بڑھنے دو
سُنتے ہیں‌ کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اُٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دُشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

اجبنی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے

گیت/غزل

اس اندھیرے کے سنسان جنگل میں ہم ڈگمگاتے رہے مسکراتے رہے
لَو کی مانند ہم لڑکھڑاتے رہے، پر قدم اپنے آگے بڑھاتے رہے
اجنبی شہر میں اجنبی راستے، میری تنہائی پر مسکراتے رہے
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
کل کچھ ایسا ہوا، میں بہت تھک گیا، اس لیے سن کے بھی ان سنی کر گیا
کتنی یادوں کے بھٹکے ہوئے کارواں، دل کے زخموں کے در کھٹکھٹاتے رہے

اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے

اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے
صبحِ فردا کی کرن بھی نہ جہاں تک پہنچے
میں نے آنکھوں‌ میں چھپا رکھے ہیں کچھ اور چراغ
روشنی صبح کی شاید نہ یہاں تک پہنچے
بے کہے بات سمجھ لو تو مناسب ہو گا
اس سے پہلے کے یہی بات زباں تک پہنچے

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے

کٹ ہی گئی جدائی بھی، کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے، میرے بھی دن گزر گئے
وقت ہی کچھ جدائی کا ، اتنا طویل ہو گیا
دل میں ترے وصال کے، جتنے تھے زخم، بھر گئے
تیرے لیے چلے تھے ہم، تیرے لیے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے، تو نے کہا تو مر گئے

Sunday, 2 June 2013

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے

 عکس کو پھُول بنانے میں گُزر جاتی ہے

زندگی، آئینہ خانے مں گزر جاتی ہے

شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی رُوٹھ گیا

اور شب، اس کو منانے میں گزر جاتی ہے

ہر محبت کے لیے دل میں الگ خانہ ہے

ہر محبت اسی خانے میں گزر جاتی ہے