Saturday, 1 July 2023

بے قید زندگی پر تعزیر چاہتا ہوں

 بے قید زندگی پر تعزیر چاہتا ہوں

ہر پائے بُوالہوس میں زنجیر چاہتا ہوں

دل تیرگی کا مرکز آنکھیں ہیں شب گزیدہ

ظلمت کدوں میں جشنِ تنویر چاہتا ہوں

سب کچھ لُٹا دیا ہے جس آرزو کی خاطر

اس خواب کی میں اپنے تعبیر چاہتا ہوں

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے

 کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

جو دلگیروں کا گیت بنے

کوئی لفظ تحمّل والا ہو

کوئی بات کہ جیسے ماں بولے

جسے سن کر زخم بھریں دل کے

جسے چُھو کے رنج نہ ہو کوئی

عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو

 عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو

کون کہے گا تم کو ظالم، اور کہے تو کہنے دو

کوئی کنارا، کوئی سہارا، کیا جانے کب مل جائے

یہ طوفان کی ماری کشتی، بہتی ہے جب تک بہنے دو

حرف و حکایت، شُکر و شکایت دل میں لیے ہیں ہم کیا کیا

اپنے کرم کا ذکر کہاں تک، کچھ تو ہمیں بھی کہنے دو

ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہم

 ہم سے کنارہ کیوں ہے تِرے مبتلا ہیں ہم

اے بحرِ حُسن! آ ادھر آ آشنا ہیں ہم

ناقوس مےکدے میں بجایا تو یہ کہا

بندے گناہ گار تِرے اے خدا ہیں ہم

پروا نہیں ہے تم کو تو ہے تم پہ کیوں مریں

دو بھر نہ زندگی ہے نہ گھر سے سوا ہیں ہم

کوشش ترک تعلق نے رلایا ہے بہت

 کوشش ترکِ تعلق نے رُلایا ہے بہت

بُھولنا چاہا جب اس کو یاد آیا ہے بہت

ہے عمل کے بعد ہی دستِ دُعا کا مرحلہ

ہم نے اے واعظ خدا کو آزمایا ہے بہت

اک تبسم کے لیے سو بار آنکھیں نم ہوئیں

زندگی اے زندگی تُو نے رُلایا ہے بہت

ایک آنسو کے ٹپک جانے سے غم افشا ہوا

 ایک آنسو کے ٹپک جانے سے غم افشا ہوا

تھا سمندر کا سمندر، بُوند میں ٹھہرا ہوا

یاد ہے کل ہم ملے تھے پھر نہ جانے کیا ہوا

وہ بھی کچھ کھوئے ہوئے تھے میں بھی کچھ کویا ہوا

اپنی اپنی راہ سے نکلے تھے یاران خودی

سب سے پہلے آ گیا میں دار سے ہوتا ہوا

گاہے ادھر کی فکر ہے گاہے ادھر کی ہے

 گاہے اِدھر کی فکر ہے گاہے اُدھر کی ہے 

مٹی غرض خراب جہاں میں بشر کی ہے 

معصوم کو بھی نزع ہے ہرگز نہیں مفر 

مظلوم کی دعا کو بھی حاجت اثر کی ہے 

چوٹی میں اور جُوڑے میں ظالم کے فرق ہے 

یہ راہ عمر بھر کی ہے وہ سال بھر کی ہے