Thursday, 23 July 2020

جب اذیت کے موسم گزر جائیں گے

جب اذیت کے موسم گزر جائیں گے
لوگ گھر جائیں گے
پوچھنا صرف اتنا ہی تھا، ہم کدھر جائیں گے؟
ہم کہ جن کے مقدر ہیں تیرہ شبی
جن کی ناؤ نہیں، کوئی دھارا نہیں
جن کا اپنے سوا کوئی محرم نہیں
کچھ سہارا نہیں

کیسے آ کر کوئی
یہ بتائے ہمیں
خوں رلائے ہمیں
تم کو ملنا کبھی وہ کنارا نہیں
حسن کی چھاؤں میں
جسم کی دھوپ میں
اب کسی روپ میں
وہ تمہارا نہیں
وہ تمہارا نہیں

ایمان قیصرانی

No comments:

Post a Comment